ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / امریکی وفد کے رکن نے ایران کے خفیہ دورے کی تفصیلات کا خلاصہ کیا 

امریکی وفد کے رکن نے ایران کے خفیہ دورے کی تفصیلات کا خلاصہ کیا 

Thu, 22 Sep 2016 16:48:49    S.O. News Service

یوٹاہ ، 22؍ستمبر (ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )امریکی ریاست یوٹاہ سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے رکن اور سینیٹر جم ڈیباکیس نے نے کچھ عرصہ قبل امریکی وفد میں شامل ہو کر ایران کے خفیہ دورے کی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔امریکی ویب سائٹkutvکے ساتھ انٹرویو میں ڈیباکیس نے بتایا کہ 12افراد پر مشتمل امریکی وفد نے ایک ایرانی تعلیمی ادارے کی دعوت پر یہ دورہ کیاتھا ۔ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کا مزید کہنا تھا کہ امریکی وفد نے واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں قائم ایرانی مفادات کے تحفظ کے بیورو سے ویزا حاصل کیا تھا ۔ڈیباکیس نے واضح کیا کہ ان کا ایران کا دورہ 6روز پر مشتمل تھا جس کے دوران وہ تہران اور اصفہان گئے۔ ان کے مطابق ایران میں لوگ امریکیوں سے محبت کرتے ہیں اور جب ہم ایران کی سڑکوں پر نکلتے ہیں تو ایرانی باشندے ہم سے بات چیت کرتے ہیں اور اپنے گھروں پر دعوت دیتے ہیں۔امریکی سینیٹر کے نزدیک ایرانی عوام امریکہ کے ساتھ تعلقات کی درستی کے لیے تیار ہیں خواہ ان کی حکومت اس بات پر یقین نہ رکھتی ہو۔جم ڈیباکیس سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ 1970سے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے باوجود اس دورے کی وجوہات کیا تھیں، تو ان کا کہنا تھا کہ میں صرف امریکی عوام اور یوٹاہ ریاست کی خدمت کا مقصد دل میں لے کر گیا تھا تاکہ لوگوں کے درمیان امن قائم ہو اور ان کے ساتھ بات چیت کی جائے۔

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کے نزدیک شمار کی جانے والی نیوز ایجنسی’ تسنیم ‘نے اس دورے کی اجازت دینے پر ایرانی حکام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔اس سے قبل مختلف ایرانی ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ ایک امریکی وفد نے ایران کو بوئنگ ساخت کے شہری طیاروں کی فروخت کی ڈیل ختم کروانے کے لیے تہران کا دورہ کیا تھا۔پاسداران انقلاب اور سیکورٹی اداروں کے نزدیک ذرائع ابلاغ نے مذکورہ دورے کو اس وجہ سے کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بنایا تھا کہ امریکی وفد کے دو ارکان فوجی ماہرین تھے۔ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای نے گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکا پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اس کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعلقات کی بحالی کو مسترد کر دیا تھا۔ علی خامنہ ای نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ ایرنی نظام کے اندر تفرقہ پھیلانے اور ایران میں سرائیت کی کوششیں کر رہا ہے۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ دورہ اور جولائی 2015میں نیوکلیئر معاہدے کے بعد امریکی اقتصادی وفود کے ایران کے سابقہ دورے کسی طور بھی مرشد اعلی علی خامنہ ای کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں۔


Share: